5 مئی 2013 - 19:30
عراق میں بد امنی ترکی کے اشارہ سے

عراق کے قائم مقام وزير دفاع نے کہا ہے کہ عراق ميں حاليہ بدامني اور شورش ترکي کے اشارے پر انجام پارہي ہے۔

ابنا: عراق کے قائم مقام وزير دفاع سعدون الدليمي نے کہا ہے کہ ترکي اور بعض ديگر علاقائي ممالک عراق ميں بدامني اور دہشتگردي کو ہوا دے رہے ہيں- انہوں نے بتايا کہ عراق کے بعض علاقوں ميں ہونے والے مظاہرے دہشتگردوں اور قاتلوں کي پناہ گاہ ميں تبديل ہوگئے ہيں - انہوں نے گزشتہ دنوں عراق کے بعض علاقوں جيسے الانبار، موصل اور سامرہ ميں فوج اور پوليس کے اہلکاروں کے قتل عام کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ترکي بلوائيوں اور دہشتگردوں کي حمايت کرکے عراق کو عثماني سلطنت کا حصہ بنانا چاہتا ہے-  دہشتگردانہ کاروائيوں ميں ملوث عراق کے  مفرور نائب صدر طارق  ہاشمي کو ترکي ميں پناہ دينے ، پي کے کے کے باغيوں کے مقابلے کے بہانے شمالي عراق پر ہوائي حملوں ميں شدت لانے اور عراق کي مرکزي حکومت کے علم ميں لائے بغير عراقي کردستان کا تيل خريدنے اور دوسرے ملکوں کو سپلائي کرنے کے  انقرہ حکومت کے غير قانوني اقدامات کے بعد عراق اور ترکي کے روابط ميں کشيدگي آگئ  ہے –  اسي کے ساتھ عراق کي انٹيليجنس کي وزارت نے بھي ايک بيان جاري کرکے اعلان کيا ہے کہ عراقي فوج کے چند بڑے افسروں کو جو مفرور نائب صدر طارق  ہاشمي کے دفاتر کو خفيہ اطلاعات فراہم کيا کرتے تھے، گرفتار کرليا گيا ہے - اس بيان کہا گيا ہے گرفتار ہونے والے فوجي افسران خطے کي بعض حکومتوں کے تعاون سے عراق ميں بعثي نظريات کي ترويج اور حکومت کے خلاف بغاوت کي تياري کررہے تھے –ياد رہے کہ دو ہزار بارہ کے اواخر سے الانبار، نينوا، صلاح الدين، کرکوک اور ديالہ سميت مختلف صوبوں ميں بدامني اور دہشتگردانہ کاروائيوں ميں تيزي آگئي ہے -۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲